بشار الاسد کے دادا نے قوم سے "خیانت" کی، وہ شام کی آزادی کے خلاف تھے: فرانس

سلیمان الاسد کے 'کارنامے' پر بشار الجعفری کو سبکی کا سامنا

بشار الاسد کے دادا نے قوم سے "خیانت" کی، وہ شام کی آزادی کے خلاف تھے: فرانس



لندن ۔ کمال قبیسی


سلامتی کونسل کے ایک حالیہ اجلاس میں اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار الجعفری اور فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی نے صدر بشار الاسد کے دادا سلیمان الاسد کا برسوں پرانا اسکینڈل طشت ازبام کر دیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق سلیمان الاسد نے اپنی قوم سے خیانت کی تھی۔ وہ شام کی فرانسیسی استعمار سے آزادی کےخلاف تھے اور قوم کو آزادی نہ دلوانے کے لیے انہوں نے حکومت وقت کو درخواست دی تھی۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی ادارے146 میں شامی مندوب اور فرانسیسی وزیر خارجہ کے درمیان اس وقت بحث چھڑی جب مسٹر الجعفری نے فرانس کی طرف سے شامی باغیوں اور پناہ گزینوں کی مدد کے لیے مطالبہ کیا گیا۔ اس پر شامی مندوب نے سنہ 1910ء سے 1940ء کے عرصے کے دوران شام پر فرانسیسی قبضے کا حوالہ دیا اور کہا کہ پیرس ایک مرتبہ پھر شام کے خلاف اپنے استعماری ہتھکنڈوں کو استعمال کر رہا ہے۔ اس پر فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ جس استعماری دور کی بات کرتے ہیں بشار الاسد کے دادا سلیمان الاسد نے نہ صرف اس کی حمایت کی تھی بلکہ فرانس کو شام کا قبضہ نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ فرانسیسی وزیر نے کہا کہ ان کے پاس بشار الاسد کے دادا کی اپنی قوم سے خیانت کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ وہ چاہیں تو وہ انہیں وزارت خارجہ کے ریکارڈ سے مہیا کر سکتے ہیں۔



انہوں نے کہا کہ یہ دستاویزی ثبوت صدر اسد کے دادا سلیمان الاسد کی وہ تحریر تھی جو انہوں نے شام پر فرانسیسی قبضے کے دوران فرانسیسی حکومت کو لکھی تھی، جس میں فرنچ حکومت سے دمشق پر قبضہ نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ یہ تحریر اس وقت لکھی گئی تھی جب سلیمان الاسد فرانسیسی قابض حکومت میں وزیر تھے اور فرانسیسی استعمار کے خلاف ملک میں آزادی کی تحریک کچلنے کی حمایت کر رہے تھے۔



بشار الجعفری کے الزامات اور تنقید کے جواب میں فرانسیسی وزیر کے تیر بہ ہدف نسخے نے الجعفری کو خاموش کرا دیا۔ مسٹر لوران فابیوس نے کہا کہ آپ زیادہ چالاک بننے کی کوشش نہ کریں۔ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے محبوب لیڈر بشار الاسد کے دادا نے اپنی قوم کے ساتھ کیا دھوکہ کیا تھا۔ وہ اپنی قوم کو فرانسیسی قبضے سے آزاد کرانے کے خلاف تھے۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو پیرس وزارت خارجہ میں ان کی وہ دستاویز آج بھی موجود ہے جس میں صدر اسد کے دادا نے اس وقت کی حکومت سے دمشق کو آزادی نہ دینے کا مطالبہ کیا تھا146146۔



بہ ظاہر ایسے لگتا ہے کہ فرانسیسی وزیر صدر اسد کے دادا کی صحیح شناخت بھول رہے تھے۔ انہوں نے سلیمان الاسد کو بشار الاسد کا داد قرار دیا حالانکہ ان کے دادا کا نام علی سلیمان الاسد ہے اور سلیمان الاسد بشار الاسد کے پر دادا تھے۔ وہ 1850ء کو قرادحہ شہر میں پیدا ہوئے اور ان کےخاندان کو ایک وحشی قبائل کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔



برطانیہ کے ایک نامور صحافی پیٹریک سیل نے بشار الاسد کے خاندان کے بارے میں ایک کتاب تحریر کی ہے، جس میں اس واقعے کا بھی ذکر ہے۔ پیٹرک لکھتے ہیں کہ صدر اسد کے دادا کا ایک ترک باکسر کے ساتھ مقابلہ ہوا تھا جس میں وہ جیت گئے تھے، یہی ان کی وجہ شہرت تھی۔ بعد ازاں وہ شام میں فرانسیسی حکومت کے وزیر بھی رہے ہیں۔



فرانسیسی وزیر خارجہ اور بشار الجعفری کے درمیان ہوئی بحث کے بعد العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس دستاویز کی چھان پھٹک شروع کی۔ اس سلسلے میں لبنانی اخبار 'النہار' کے ایک نامہ نگار انطوان غطاس صعب سے رابطہ کیا گیا۔ انطوان نے گذشتہ برس اکتوبر میں اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں سلیمان الاسد کی لکھی گئی اس تحریر کا مکمل متن شائع کیا تھا۔ تاہم اصلی نسخہ جو فرانسیسی وزارت خارجہ کی لائبریری میں موجود ہے نہیں دکھایا گیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے وہ اصل نسخہ بھی ڈھونڈ نکالا جس پر سلیمان الاسد کے دستخط ثبت ہیں۔



انطوان غطاس صعب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا بشار الاسد کے دادا اور ان کے علوی خاندان نے 145شاہ سے بڑھ کر شاہ سے وفاداری146 کا ثبوت دینے کی کوشش کی تھی۔ علوی خاندان کی کئی اہم شخصیات جن میں علی سلیمان الاسد بھی شامل ہیں مل کر اس وقت کے فرانسیسی وزیر اعظم "لیون بلوم" کے پاس گئے اور ان سے تحریری طور پر یہ درخواست کی تھی کہ وہ دمشق کا قبضہ نہ چھوڑیں۔ برطانوی وزارت خارجہ کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق ان کے پاس اس تحریر کا اندراج 15 جون 1936ء کو کیا گیا ہے۔



اس دستاویز میں شام کو فرانس سے مکمل آزادی کی مخالفت کرتے ہوئے صرف علوی اہل تشیع کے اکثریتی علاقوں کو خود مختاری دینے کی حمایت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اس دستاویز میں کہا گیا تھا کہ اہل سنت والجماعت مسلک اور علوی اہل تشیع مسلک کے درمیان مذہبی امور میں سخت اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر فرانس نے شام کا قبضہ چھوڑ دیا تو اس کے نتیجے میں سُنی دمشق پر قابض ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بڑی غلطی ہو گی اور اس کا نتیجہ خون خراب کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
بشکریہ العربیہ